تبٰرک الّذی 29

سورةالُقلم مکیة 68

رکوع 3

آیات 1سے 33

اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والاہے

ن

قسم ہے قلم کی

اور

اُس چیز کی

جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں

تم

اپنے ربّ کے فضل سے مجنون نہیں ہو

اور

یقینا

تمہارے لیے ایسا اجر ہے

جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں

اور

بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو

عنقریب

تم بھی دیکھ لو گے

اور

وہ بھی دیکھ لیں گے

کہ

تم میں سے کون جنون میں مُبتِلا ہے

تمھار

ا ربّ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے

جو

اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں

اور

وہی

ان کوبھی اچھیّ طرح جانتا ہے

جو راہِ راست پر ہیں

لہٰذا

تم

ان جھُٹلانے والوں کے

دباؤ میں ہرگز نہ آؤ

یہ تو چاہتے ہیں

کہ

تم

کچھ مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں

ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے

جو بہت قسمیں کھانے والا بے

بے وقعت آدمی ہے

طعنے دیتا ہے

چغلیاں کھاتا پھرتا ہے

بھلائی سے روکتا ہے

ظلم و زیادتی میں

حد سے گزر جانے والا ہے

سخت بد اعمال ہے

جفا کار ہے

اور

اُن سب عیوب کے ساتھ بےاصل ہے

اِس بنا پر کہ

وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے

جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں

تو کہتا ہے

کہ

یہ تواگلے وقتوں کے افسانے ہیں

عنقریب

ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے

ہم نے ان (اہلِ مکہّ ) کو

اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے

جس طرح

ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا

جب انہوں نے قسم کھائی کہ

وہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے

اور

وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے

رات کو وہ سوئے پڑے تھے

کہ

تیرے ربّ کی طرف سے ایک بلا اُس باغ پر پھِر گئی

اور

اُس کا ایسا حال ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو

صبح ان لوگوں نے ایک دوسرے کو پُکارا

کہ اگر

پھل توڑنے ہیں تو

سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو

چناچہ

وہ چل پڑے

اور

آپس میں چُکے چُپکے کہتے جاتے تھے

کہ

آج

کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے

وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے

صبح سویرے جلدی جلدی اِس طرح وہاں گئے

جیسے کہ

وہ ( پھل توڑنے) پر قادر ہیں

جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے

کہ

ہم راستہ بھول گئے ہیں

نہیں

بلکہ ہم محروم رہ گئے

اُن میں سے جو سب سے بہترآدمی تھا

اُس نے کہا

میں نے تم سے کہا نا تھا

کہ

تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟

وہ پُکار اٹھے

پاک ہے ہمارا ربّ

واقعی

ہم گناہ گار تھے

پھر

اُن میں سے ہر ایک

دوسرے کو ملامت کرنے لگا

آخر کو اُنھوں نے کہا

افسوس

ہمارے حال پر

بے شک

ہم سرکش ہو گئے تھے

بعید نہیں

کہ

ہمارا رب

ہمیں بدلے میں اِس سے

بہتر باغ عطا فرمائے

ہم

اپنے ربّ کی طرف رجوع کرتے ہیں

ایسا ہوتا ہے عذاب

اور

آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے

کاش

یہ لوگ اس کو جانتے